ترجمہ: ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہے، اور حجِ مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔
— صحیح بخاری ۱۷۷۳، صحیح مسلم ۱۳۴۹ — حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
صحیح اور آسان طریقہ
عمرہ کے چار بنیادی ارکان: احرام، طواف، سعی، اور حلق یا تقصیر۔ یہ گائیڈ سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق وہ مشترکہ طریقہ بیان کرتی ہے جسے ہر مسلمان آسانی سے ادا کر سکتا ہے۔
اگر آپ ذیل میں دیے گئے طریقے پر عمل کریں، ان شاء اللہ آپ کا عمرہ صحیح اور مقبول ہوگا۔ کسی ذاتی مسئلے میں اپنے کسی مستند عالم سے رہنمائی لیں۔
پاکستان سے روانگی سے پہلے تیاری
عمرہ کا سفر دل کی صفائی سے شروع ہوتا ہے۔ روانگی سے پہلے ان امور کا اہتمام کریں۔
خالص توبہ
تمام گزشتہ گناہوں سے سچی توبہ کریں۔ یہ سفر اللہ کی طرف ہے، اس کی تیاری دل کی صفائی سے شروع ہوتی ہے۔
قرضوں کی ادائیگی
روانگی سے پہلے تمام واجب الادا قرضے ادا کریں۔ اگر فوراً ممکن نہیں تو قرض خواہ کو اطلاع دے کر اجازت لیں۔
امانتوں کی واپسی
جن لوگوں کی امانتیں آپ کے پاس ہیں، انہیں واپس کریں۔
قضا نمازیں اور روزے
حسبِ استطاعت قضا نمازوں اور روزوں کی ادائیگی شروع کریں۔
حلال کمائی
سفر کا تمام خرچہ حلال کمائی سے ہو۔ یہ قبولیتِ عمرہ کی بنیادی شرط ہے۔
گھر والوں سے معافی
خاندان، رشتہ داروں اور دوستوں سے معافی مانگیں اور حقوق العباد چکا کر روانہ ہوں۔
وصیت لکھنا
ضروری ہو تو وصیت تحریر کر کے کسی قابل اعتماد فرد کے سپرد کر دیں۔
دستاویزات اور ویکسین
پاسپورٹ، ویزا، فلائٹ ٹکٹ، ہوٹل بکنگ، مینن جائٹس ویکسین کارڈ، اور ضروری ادویات ساتھ رکھیں۔
عمرہ کے چار ارکان
ان چار بنیادی ارکان کو ترتیب سے ادا کرنا ہی عمرہ کہلاتا ہے۔
ہر مرحلے میں: عمل کا طریقہ، مطلوبہ دعا، اور بچنے کی عام غلطیاں۔
1
نیت اور غسلِ احرام
مقام:گھر، ہوٹل، یا میقات سے پہلےوقت:احرام پہننے سے پہلے
طریقہ:
غسل کریں (یا کم از کم وضو)۔ مرد ناخن تراش لیں، زائد بال صاف کر لیں، خوشبو لگائیں (جسم پر، احرام کے کپڑے پر نہیں)۔ خواتین حسبِ ضرورت تیاری کریں۔ پھر دل میں عمرہ کی نیت کا ارادہ کریں۔
ترجمہ: اے اللہ! میں عمرے کا ارادہ کرتا ہوں، پس اسے میرے لیے آسان فرما اور اسے مجھ سے قبول فرما۔
— صحیح مسلم ۱۲۰۷ کی بنیاد پر مرتبہ — معاصر علماء کی تعلیم
نیت دل کی چیز ہے۔ زبان سے ادا کرنا واجب نہیں؛ دل میں ارادہ کافی ہے۔
عام غلطیاں جن سے بچنا ہے
◆احرام کے کپڑے پر خوشبو لگانا (ممنوع ہے)
◆نیت کی زبانی ادائیگی کو لازمی سمجھنا (نیت دل کی چیز ہے)
2
احرام پہننا اور دو رکعت سنتِ احرام
مقام:میقات یا میقات سے پہلےوقت:تلبیہ شروع کرنے سے پہلے
طریقہ:
مرد دو سفید بغیر سلے کپڑوں کا احرام پہنیں — ایک ازار (نچلا) اور ایک رداء (اوپری)۔ خواتین اپنا عام شرعی لباس پہن سکتی ہیں؛ مخصوص رنگ یا انداز ضروری نہیں، البتہ چہرہ اور ہاتھ ڈھانپنے کے لیے علیحدہ کپڑا استعمال کر سکتی ہیں۔ پھر دو رکعت نفلِ احرام پڑھیں — پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری میں سورۃ الاخلاص پڑھنا مستحب ہے۔
عام غلطیاں جن سے بچنا ہے
◆مردوں کا سلے ہوئے کپڑے پہنے رکھنا
◆احرام کی نیت دل میں نہ کرنا — صرف کپڑا کافی نہیں
3
میقات عبور کرنا اور تلبیہ کہنا
مقام:میقات کی حد (ہوائی جہاز سے: یلملم، یا قرن المنازل)وقت:میقات سے پہلے، جہاز کے اعلان پر
طریقہ:
میقات سے گزرنے سے پہلے یا اسی وقت تلبیہ شروع کر دیں۔ پاکستان سے جدہ کی براہِ راست پروازوں کا میقات عام طور پر یلملم ہے۔ کپتان عام طور پر ۳۰ سے ۶۰ منٹ پہلے اعلان کرتا ہے۔ احرام پہلے ہی ائیرپورٹ پر پہن لیں؛ نیت اور تلبیہ کا آغاز اعلان پر کریں۔
ترجمہ: میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ بے شک ہر تعریف اور ہر نعمت تیری ہی ہے، اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔
— صحیح بخاری ۱۵۴۹، صحیح مسلم ۱۱۸۴ — حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما
مرد بلند آواز سے، خواتین آہستہ کہیں۔ احرام باندھنے کے بعد سے حجرِ اسود کے استلام تک کثرت سے پڑھتے رہیں۔
عام غلطیاں جن سے بچنا ہے
◆میقات سے گزرنے کے بعد ’بعد میں احرام باندھ لیں گے‘ سوچنا
◆تلبیہ کو سرسری انداز میں ایک بار کہنا — کثرت سنت ہے
4
محرّمات (احرام کی پابندیاں)
مقام:احرام کے دوران ہر جگہمدت:احرام سے حلق/تقصیر تک
طریقہ:
احرام میں درج ذیل ممنوع ہیں: خوشبو لگانا، ناخن یا بال کاٹنا، شکار کرنا، میاں بیوی کے تعلقات، نکاح، لڑائی جھگڑا، فحش گوئی، مردوں کے لیے سلے ہوئے کپڑے، سر چھپانا، اور خواتین کے لیے چہرے پر چپکنے والا نقاب۔ سایہ اختیاری ہے، چھتری استعمال کر سکتے ہیں۔ نادانستہ پابندی توڑنے پر صدقہ یا دم (قربانی) واجب ہو سکتا ہے — کسی عالم سے رجوع کریں۔
عام غلطیاں جن سے بچنا ہے
◆احرام میں صابن یا شیمپو سے غسل کرنا (اگر اس میں خوشبو ہو)
◆احرام میں ناخن کاٹنا — یاد دہانی کے لیے پہلے ہی کاٹ لیں
◆خواتین کا نقاب چہرے سے ٹچ کرتے ہوئے باندھنا (علیحدہ کپڑے سے پردہ کریں)
5
مکہ مکرمہ میں داخلہ اور پہلی نظر
مقام:مسجدِ حرام کا داخلہ — ترجیحاً باب السلاموقت:طواف سے پہلے
طریقہ:
مسجدِ حرام میں دایاں پاؤں رکھ کر داخل ہوں اور مسجد میں داخلے کی دعا پڑھیں: ’اللهم افتح لي أبواب رحمتك‘۔ کعبہ کو پہلی بار دیکھیں تو رکیں، ہاتھ اٹھائیں اور دعا کریں۔ پھر طواف کے لیے بڑھیں۔
ترجمہ: اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے، اور تجھ ہی سے سلامتی ہے، اے ہمارے رب! ہمیں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ۔
— حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے موقوف منقول — السنن الکبریٰ للبیہقی
نوٹ: کعبہ پر پہلی نظر پر کوئی خاص دعا حدیثِ مرفوع سے ثابت نہیں۔ یہ صحابہ کا عمل ہے۔ آپ اپنی ذاتی دعا، تکبیر اور تحمید بھی کر سکتے ہیں۔
عام غلطیاں جن سے بچنا ہے
◆ضعیف یا گھڑی ہوئی دعا کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا
◆ہجوم میں رکنا جو پیچھے سے آنے والوں کے لیے رکاوٹ بنے
6
طواف — کعبہ کے گرد سات چکر
مقام:مطاف (کعبہ کے اطراف)تعداد:سات چکر
طریقہ:
اضطباع (مرد دائیں کندھے کو ننگا کر کے رداء بائیں کندھے پر ڈالیں) کے ساتھ حجرِ اسود کے سامنے کھڑے ہوں، تکبیر کے ساتھ استلام کریں، اور کعبہ کو بائیں طرف رکھ کر چکر شروع کریں۔ پہلے تین چکروں میں مرد رمل (تیز چال) کریں۔ ہر چکر حجرِ اسود سے شروع ہو کر حجرِ اسود پر ختم ہوتا ہے۔ حطیم کے باہر سے گزریں۔ رکنِ یمانی کو ہاتھ سے چھوئیں (بغیر بوسہ کے)۔ رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان ’ربنا آتنا‘ کی دعا پڑھیں۔
حجرِ اسود کا استلام
بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ
ترجمہ: اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے۔
— بیہقی ۳/۸۶ — حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما (صحیح لغیرہ)
ہجوم میں زبردستی پتھر کو چومنے یا چھونے کی کوشش نہ کریں۔ دائیں ہاتھ سے اشارہ کر کے ’اللہ اکبر‘ کہنا کافی ہے۔
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔
— سورۃ البقرہ ۲:۲۰۱ — سنن ابو داؤد ۱۸۹۲ (حسن)
عام غلطیاں جن سے بچنا ہے
◆ہر کونے کو چومنا یا چھونا — صرف حجرِ اسود کو چومیں، رکنِ یمانی کو صرف چھوئیں
◆حطیم کے اندر سے گزر کر چکر کاٹنا — مکمل ۷ چکر کعبہ کے گرد ہی پورے کرنے ہیں
◆ہر چکر کے لیے مخصوص دعا کو واجب سمجھنا — کوئی دعا متعین نہیں
◆بلند آواز سے اجتماعی دعا کرنا — انفرادی دعا سنت ہے
7
مقامِ ابراہیم پر دو رکعت
مقام:مقامِ ابراہیم کے پیچھے (یا حرم میں کوئی بھی جگہ ہجوم میں)وقت:طواف کے فوراً بعد
طریقہ:
مقامِ ابراہیم کے پیچھے ایسی جگہ کھڑے ہوں کہ مقام آپ اور کعبہ کے درمیان ہو۔ پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الکافرون، دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الاخلاص پڑھیں۔
مقامِ ابراہیم پر دو رکعت
وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى
ترجمہ: اور (لوگو!) مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔
— سورۃ البقرہ ۲:۱۲۵ — صحیح مسلم ۱۲۱۸ (حضرت جابر رضی اللہ عنہ)
پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الکافرون، دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الاخلاص۔ اگر مقامِ ابراہیم پر جگہ نہ ہو تو حرم میں کسی جگہ بھی دو رکعت پڑھ لیں۔
عام غلطیاں جن سے بچنا ہے
◆مقامِ ابراہیم کو چھونا یا بوسہ دینا — یہ بدعت ہے
◆ہجوم میں زبردستی مقام کے بالکل قریب جانے کی کوشش
8
آبِ زمزم
مقام:حرم کے اطراف میں زمزم کے کولروقت:طواف کے بعد، سعی سے پہلے
طریقہ:
قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو کر (یا بیٹھ کر) ’بسم اللہ‘ پڑھ کر تین سانس میں زمزم پئیں۔ ہر سانس سے پہلے ’بسم اللہ‘، آخر میں ’الحمدللہ‘ کہیں۔ پینے کی نیت کوئی بھی جائز مقصد ہو سکتی ہے — صحت، علم، رزق، آخرت۔
ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، کشادہ رزق، اور ہر بیماری سے شفاء کا سوال کرتا ہوں۔
— حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا عمل — مستدرک حاکم ۱/۴۷۳
بنیادی حدیث: ’آبِ زمزم جس نیت سے پیا جائے، اللہ وہی عطا کرتا ہے۔‘ (سنن ابن ماجہ ۳۰۶۲) قبلہ رخ ہو کر، بسم اللہ پڑھ کر تین سانس میں پئیں اور آخر میں الحمدللہ کہیں۔
عام غلطیاں جن سے بچنا ہے
◆زمزم ضائع کرنا — بڑی بوتلوں میں ضرورت سے زیادہ بھرنا
◆زمزم کو جسم پر بطورِ شفا ’مالش‘ کرنا — یہ سنت نہیں مگر جائز
9
سعی — صفا اور مروہ کے درمیان
مقام:مسعیٰ (صفا اور مروہ)تعداد:سات چکر (صفا سے ابتدا، مروہ پر اختتام)
طریقہ:
صفا کی پہاڑی پر چڑھنے سے پہلے قرآنی آیت ’ان الصفا والمروہ‘ پڑھیں۔ صفا پر چڑھ کر قبلہ رخ ہوں، ہاتھ اٹھائیں، تین بار ’لا الہ الا اللہ‘ کی مخصوص دعا پڑھیں، ہر بار کے بعد اپنی ذاتی دعا کریں۔ پھر مروہ کی طرف چلیں۔ سبز نشانوں (مرد) کے درمیان ’ہرولہ‘ (تیز چال) کریں۔ مروہ پر پہنچ کر وہی عمل دہرائیں۔ صفا سے مروہ ایک چکر، مروہ سے صفا دوسرا چکر۔ کل ۷ چکر — مروہ پر ختم۔
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے ہر تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی، اور اکیلے ہی (دشمن کے) لشکروں کو شکست دی۔
— صحیح مسلم ۱۲۱۸ — حضرت جابر رضی اللہ عنہ (حدیثِ جابر طویل)
صفا پر چڑھ کر قبلہ رخ ہو کر تین مرتبہ پڑھیں، ہر مرتبہ کے بعد اپنی ذاتی دعا کریں۔ مروہ پر بھی یہی عمل دہرائیں۔
عام غلطیاں جن سے بچنا ہے
◆صفا اور مروہ کو ’سات بار آنا جانا‘ شمار کرنا (درست شمار: صفا → مروہ = ۱ چکر)
◆ہرولہ والے سبز نشانوں سے باہر تیز چلنا
◆خواتین کا ہرولہ کرنا — یہ صرف مردوں کے لیے سنت ہے
10
حلق (مرد) یا تقصیر (خواتین)
مقام:حرم کے اطراف یا قریبی حلاقوقت:سعی کے بعد — یہی عمرہ مکمل ہونے کی علامت ہے
طریقہ:
مرد: پورے سر کے بال منڈوانا (حلق) افضل ہے۔ قبلہ رخ ہو کر دائیں جانب سے ابتدا کریں۔ خواتین: اپنی چوٹی یا بالوں کے سرے سے ایک پور (انگلی کے ٹِپ) کے برابر بال کاٹیں — خواتین کے لیے سر منڈوانا جائز نہیں۔
ترجمہ: ہر تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے میرا عمرہ مکمل کرایا۔
— عام شکر کے کلمات — کوئی مخصوص حدیثِ مرفوع نہیں
مرد سر منڈواتے وقت قبلہ رخ ہوں اور دائیں جانب سے ابتدا کریں (صحیح مسلم ۱۳۰۵)۔ خواتین انگلی کے ایک پور کے برابر بال کاٹیں۔
عام غلطیاں جن سے بچنا ہے
◆خواتین کا سر منڈوانا یا منڈوانے کے قریب کے برابر بال کاٹنا (جائز نہیں)
◆صرف ایک یا دو بال کاٹ کر سمجھنا کہ حلق ہو گیا — مردوں کو پورے سر کے بال منڈوانا یا کاٹنا چاہیے
◆حلق سے پہلے احرام اتارنا
11
احرام سے فراغت — عمرہ مکمل
مقام:حلق/تقصیر کی جگہوقت:حلق یا تقصیر کے فوراً بعد
طریقہ:
حلق یا تقصیر کے ساتھ ہی احرام کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ احرام اتار کر عام لباس پہن لیں۔ اللہ کا شکر ادا کریں — آپ نے عمرہ مکمل کر لیا۔ مکہ سے روانگی سے پہلے بیت اللہ کا طوافِ وداع کرنا مستحب ہے۔ مزید ذکر، نماز، اور نفلی طواف کر سکتے ہیں۔
تمام ضروری دعائیں — فوری حوالہ
سفر کے دوران یا حرم میں آسانی کے لیے تمام دعائیں ایک جگہ — قرآن و حدیث سے ماخوذ۔
ترجمہ: میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ بے شک ہر تعریف اور ہر نعمت تیری ہی ہے، اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔
— صحیح بخاری ۱۵۴۹، صحیح مسلم ۱۱۸۴ — حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما
مرد بلند آواز سے، خواتین آہستہ کہیں۔ احرام باندھنے کے بعد سے حجرِ اسود کے استلام تک کثرت سے پڑھتے رہیں۔
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔
— سورۃ البقرہ ۲:۲۰۱ — سنن ابو داؤد ۱۸۹۲ (حسن)
مقامِ ابراہیم پر دو رکعت
وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى
ترجمہ: اور (لوگو!) مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔
— سورۃ البقرہ ۲:۱۲۵ — صحیح مسلم ۱۲۱۸ (حضرت جابر رضی اللہ عنہ)
پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الکافرون، دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الاخلاص۔ اگر مقامِ ابراہیم پر جگہ نہ ہو تو حرم میں کسی جگہ بھی دو رکعت پڑھ لیں۔
ملتزم پر دعا (مستحب)
ترجمہ: حجرِ اسود اور دروازہ کعبہ کے درمیان والی جگہ ملتزم کہلاتی ہے۔ یہاں سینہ، رخسار اور ہتھیلیاں کعبہ کی دیوار سے لگا کر ذاتی دعا کرنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل ہے۔ کوئی مخصوص الفاظ مقرر نہیں — اپنی ضرورت کے مطابق اللہ سے مانگیں۔
— صحابہ کا عمل — اسلام سوال و جواب، فتویٰ ۴۷۷۵۶
ہجوم کی صورت میں زبردستی نہ کریں اور دوسروں کو تکلیف نہ دیں۔
ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، کشادہ رزق، اور ہر بیماری سے شفاء کا سوال کرتا ہوں۔
— حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا عمل — مستدرک حاکم ۱/۴۷۳
بنیادی حدیث: ’آبِ زمزم جس نیت سے پیا جائے، اللہ وہی عطا کرتا ہے۔‘ (سنن ابن ماجہ ۳۰۶۲) قبلہ رخ ہو کر، بسم اللہ پڑھ کر تین سانس میں پئیں اور آخر میں الحمدللہ کہیں۔
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے ہر تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی، اور اکیلے ہی (دشمن کے) لشکروں کو شکست دی۔
— صحیح مسلم ۱۲۱۸ — حضرت جابر رضی اللہ عنہ (حدیثِ جابر طویل)
صفا پر چڑھ کر قبلہ رخ ہو کر تین مرتبہ پڑھیں، ہر مرتبہ کے بعد اپنی ذاتی دعا کریں۔ مروہ پر بھی یہی عمل دہرائیں۔
ترجمہ: ہر تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے میرا عمرہ مکمل کرایا۔
— عام شکر کے کلمات — کوئی مخصوص حدیثِ مرفوع نہیں
مرد سر منڈواتے وقت قبلہ رخ ہوں اور دائیں جانب سے ابتدا کریں (صحیح مسلم ۱۳۰۵)۔ خواتین انگلی کے ایک پور کے برابر بال کاٹیں۔
پاکستانی حاجیوں کے لیے میقات
میقات وہ مقام ہے جہاں سے گزرنے سے پہلے احرام باندھنا واجب ہے۔
پانچ میقات (صحیح بخاری ۱۵۲۴)
ذُو الْحُلَيْفَة
ذوالحلیفہ (آبیار علی)
سمت:شمال
کے لیے:اہلِ مدینہ اور جو مدینہ سے ہو کر آئیں
فاصلہ:تقریباً ۴۵۰ کلومیٹر
الْجُحْفَة
الجحفہ (رابغ)
سمت:شمال مغرب
کے لیے:اہلِ شام، مصر، شمالی افریقہ
فاصلہ:تقریباً ۱۹۰ کلومیٹر
قَرْنُ الْمَنَازِل
قرن المنازل (السیل الکبیر)
سمت:مشرق
کے لیے:اہلِ نجد (مرکزی عرب)
فاصلہ:تقریباً ۸۰ کلومیٹر
يَلَمْلَم
یلملم (سعدیہ)
سمت:جنوب
کے لیے:اہلِ یمن اور جنوبی راستے سے آنے والے
فاصلہ:تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر
ذَاتُ عِرْق
ذاتِ عرق
سمت:شمال مشرق
کے لیے:اہلِ عراق اور فارس
فاصلہ:تقریباً ۹۵ کلومیٹر
پاکستان سے روانگی کے راستوں کے مطابق میقات
کراچی / لاہور / اسلام آباد → جدہ (براہِ راست)
میقات: یلملم
پاکستان سے جدہ کی زیادہ تر براہِ راست پروازیں یلملم کے اوپر سے گزرتی ہیں۔ سعودیہ اور پی آئی اے کپتان ۳۰ سے ۶۰ منٹ پہلے اعلان کرتے ہیں۔ یہی عام راستہ ہے اکثر پاکستانی حاجیوں کا۔
کراچی / لاہور / اسلام آباد → مدینہ → سڑک کے ذریعے مکہ
میقات: ذوالحلیفہ (آبیار علی)
اگر پہلے مدینہ منورہ جا رہے ہیں، تو مسجدِ نبوی کی زیارت کے بعد مدینہ سے روانگی کے وقت ذوالحلیفہ پر احرام باندھیں۔
کراچی / لاہور / اسلام آباد → ریاض → سڑک سے مکہ
میقات: قرن المنازل (السیل الکبیر)
ریاض سے مکہ آتے ہوئے قرن المنازل کا میقات گزرتا ہے۔
کراچی → دبئی / دوحہ → جدہ
میقات: یلملم
ٹرانزٹ فلائٹس بھی عام طور پر یلملم کے اوپر سے گزرتی ہیں۔
عملی مشورہ: احرام کا کپڑا پاکستانی ائیرپورٹ پر ہی پہن لیں۔ نیت اور تلبیہ پائلٹ کے اعلان پر شروع کریں۔ اگر آپ نیند کی وجہ سے یا غلطی سے میقات گزر جائیں تو واپس جا کر احرام باندھنا واجب ہے، ورنہ دم (قربانی) لازم ہوگا۔
عام غلطیاں اور بدعات
عمرہ کرتے وقت ان غلطیوں سے بچیں۔ ہر نکتہ مستند ذرائع سے ثابت شدہ ہے۔
ہر کونے کو بوسہ یا چھونا
نبی ﷺ نے صرف حجرِ اسود کو چوما اور رکنِ یمانی کو ہاتھ سے چھوا۔ باقی دو کونے (شامی اور عراقی) نہ چومیں نہ چھوئیں۔
— صحیح بخاری ۱۶۰۸
مقامِ ابراہیم کو چھونا یا بوسہ دینا
نبی ﷺ سے مقامِ ابراہیم کو چھونا منقول نہیں۔ یہ بدعت ہے۔
— فتویٰ شیخ ابن باز — اسلام سوال و جواب
بلند آواز سے اجتماعی دعا (طواف میں)
ہر حاجی اپنی ذاتی دعا خاموشی سے یا کم آواز میں کرے۔ گروپ لیڈر کی دعا بآواز بلند دہرانا بدعت ہے۔
— ابنِ قیم، زاد المعاد ۲/۲۳۷
نیت زبان سے بلند آواز سے کہنا
نیت دل کا عمل ہے۔ اسے بآواز بلند ادا کرنا نبی ﷺ سے ثابت نہیں۔
— اسلام سوال و جواب فتویٰ ۳۱۸۲۱
طوافِ وداع کے بعد الٹے قدموں نکلنا
’کعبہ کی طرف پیٹھ نہ ہو‘ کہہ کر الٹے پیر چلنا سنت نہیں — یہ بدعت ہے۔
— اسلام سوال و جواب فتویٰ ۳۶۸۲۳
احرام کے بعد ناخن یا بال کاٹنا
اللہ تعالیٰ کا فرمان: ’اپنے سر نہ منڈواؤ یہاں تک کہ ہدی اپنی جگہ پہنچ جائے‘۔ احرام میں بال یا ناخن کاٹنا جرم ہے۔
— سورۃ البقرہ ۲:۱۹۶ — صحیح بخاری ۱۸۱۲
ہر چکر کے لیے ’خاص دعا‘ کو لازم سمجھنا
نبی ﷺ سے ہر چکر کی مخصوص دعا منقول نہیں۔ کوئی بھی جائز دعا، ذکر یا قرآن پڑھ سکتے ہیں۔
— ابنِ تیمیہ، مجموع الفتاویٰ ۲۶/۱۲۲
آبِ زمزم ضائع کرنا
یہ مبارک پانی نبی ﷺ نے احتیاط سے استعمال کیا۔ غسل یا غیر ضروری مقدار میں بوتلیں بھرنا اسراف ہے۔
— صحیح بخاری ۱۶۳۷
مسلسل بار بار عمرہ کرنا
ایک ہی قیام میں روزانہ یا کئی بار عمرہ کرنا صحابہ کا عمل نہیں۔ بعض علماء کے نزدیک اجر سے زیادہ بوجھ ہے۔
— اسلام سوال و جواب فتویٰ ۱۱۱۵۰۱
حجرِ اسود پر دوسرے زائرین کی انگوٹھیاں یا اشیاء چھونا
تبرک حجرِ اسود کی برکت اسی کے ساتھ خاص ہے، اشیاء کے ذریعے منتقل نہیں ہوتی۔ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ کا قول: ’میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نقصان دیتا ہے نہ نفع — اگر نبی ﷺ کو چومتے نہ دیکھتا تو میں نہ چومتا‘۔
— صحیح بخاری ۱۵۹۷
خواتین کا نقاب چہرے سے ٹچ کر کے باندھنا
احرام میں خواتین کا ’نقاب‘ ممنوع ہے، مگر چہرہ ڈھانپنا واجب ہے جب نامحرم مرد سامنے ہوں — اس کے لیے علیحدہ کپڑے سے پردہ کریں۔
— سنن ابو داؤد ۱۸۳۳
اللہ کے علاوہ کسی سے مانگنا
دعا صرف اللہ سے ہے۔ ’یا محمد‘ یا کسی بزرگ کا واسطہ دے کر مانگنا حجرِ اسود کے قریب جائز نہیں۔
— سورۃ الجن ۷۲:۱۸
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
جمہور علماء کے نزدیک خاتون پر ۸۸ کلومیٹر سے زیادہ کے سفر کے لیے محرم لازم ہے۔ سعودی حکومت نے ۲۰۲۱ کے بعد ۱۸ سال سے زائد عمر کی خواتین کو محرم کے بغیر عمرہ ویزا جاری کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہ سرکاری اجازت ہے؛ شرعی پہلو سے اپنے کسی مستند عالم سے رہنمائی لیں۔
نادانستہ پر گناہ نہیں، مگر دم (بکری یا بھیڑ کی قربانی) یا صدقہ واجب ہو سکتا ہے — حالات کے مطابق۔ کسی مستند عالم سے رجوع کر کے کفارہ ادا کریں۔
بہتر ہے کہ طواف کے فوراً بعد سعی کر لیں۔ مگر ضرورت کی صورت میں مؤخر کرنا جائز ہے، احرام برقرار رکھنا ہوگا۔
خاتون میقات پر احرام باندھ سکتی ہے اور تلبیہ کہہ سکتی ہے، مگر طواف پاکی کے بغیر صحیح نہیں ہوتا۔ پاکی حاصل ہونے کا انتظار کریں۔ اگر روانگی کا وقت آ جائے اور انتظار ممکن نہ ہو تو فوراً کسی مستند عالم سے رہنمائی لیں۔
بالکل۔ بزرگوں، معذور افراد اور بیماروں کے لیے وہیل چیئر سے سعی اور طواف کی اجازت ہے۔ مسجدِ حرام میں وہیل چیئر اور برقی گاڑیاں دستیاب ہیں۔
ایک سفر میں متعدد عمرے کرنا صحابہ کا عمل نہیں۔ بعض علماء اسے مکروہ یا بدعت قرار دیتے ہیں۔ بہتر ہے ایک عمرہ خشوع کے ساتھ ادا کریں اور باقی وقت طوافِ نفل، نماز اور ذکر میں صرف کریں۔
نابالغ بچے بھی احرام باندھ سکتے ہیں۔ ولی (سرپرست) ان کے لیے نیت کرے۔ بہت چھوٹے بچوں کو طواف اور سعی میں گود میں اٹھا کر یا اسٹرولر میں لے جانا جائز ہے۔
صحت کی بنیادی شرط ’استطاعت‘ ہے۔ ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ مسجدِ حرام میں طبی سہولت دستیاب ہے، مگر صحت بحال نہ ہو تو عمرہ مؤخر کرنا بہتر ہے۔
مفت ڈاؤن لوڈ
رہنمائی گائیڈز — پی ڈی ایف
تمام گائیڈز بالکل مفت ہیں — بغیر لاگ اِن، بغیر ادائیگی۔ پرنٹ کر کے سفر میں ساتھ لے جائیں یا فون میں محفوظ رکھیں۔